اتوار 1 فروری 2026 - 21:13
معاشرے کی اصلاح و قیادت میں فقہ جعفری کا کردار ہمیشہ تابناک و تاریخ ساز رہا ہے، مولانا ابن حسن املوی

حوزہ / فقہ جعفری کے اصلاحی مشینری کی کامیابی کی ایک بڑی دلیل یہ ہے کہ دنیا میں کہیں بھی فقہ جعفری کے پیروکاروں پر کسی قسم کی دہشت گردی کا دھبہ نہیں ہے، کیونکہ فقہ جعفری کے اصلاحی مہم کا ایک عظیم ستون عزاداری امام حسین علیہ السلام ہے جو مظلومیت پر قائم ہے۔اور مجالس عزائے حسین کا سلسلہ دنیا کے کونے کونے میں ہر لمحہ جاری و ساری رہتا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، فقہ جعفری جس کابنیادی مقصد ہی ہے سماج و معاشرے میں عادلانہ و منصفانہ نظام قائم کرنا اور اسلامی فقہی اصولوں کی بنیاد پر معاشرہ کی اصلاح کرنا، امر بالمعروف و نہی عن المنکر اور فلاحی اداروں کے قیام کے ذریعہ امت میں رائج غیر اسلامی رسم و رواج اور منکرات و فواحش کی روک تھام کرنا۔ اس لحاظ سے فقہ جعفری میں معاشرے کی اصلاح اور قیادت کی بھر پور استعداد و صلاحیت موجود ہے۔ معاشرے کی اصلاح و قیادت میں فقہ جعفری کا کردار ہمیشہ مثالی، امتیازی اور تابناک و تاریخ ساز رہا ہے۔

معاشرے کی اصلاح و قیادت میں فقہ جعفری کا کردار ہمیشہ تابناک و تاریخ ساز رہا ہے، مولانا ابن حسن املوی

فقہ جعفری کے اصلاحی مشینری کی کامیابی کی ایک بڑی دلیل یہ ہے کہ دنیا میں کہیں بھی فقہ جعفری کے پیروکاروں پر کسی قسم کی دہشت گردی کا دھبہ نہیں ہے، کیونکہ فقہ جعفری کے اصلاحی مہم کا ایک عظیم ستون عزاداری امام حسین علیہ السلام ہے جو مظلومیت پر قائم ہے۔اور مجالس عزائے حسین کا سلسلہ دنیا کے کونے کونے میں ہر لمحہ جاری و ساری رہتا ہے۔

مکمل تصاویر دیکھیں:

فقہ اکیڈمی دہلی کے زیرِ اہتمام عظیم الشان علمی و فقہی نشست: علماء و مشائخ کی شرکت اور خطاب

ان خیالات کا اظہار محققِ و مصنف مولانا ابن حسن املوی بانی و سرپرست حسن اسلامک ریسرچ سینٹر املو مبارکپور نے بتاریخ ۳۱؍ جنوری بروز شنبہ بوقت ۳؍بجے دن مدرسہ جامعہ فاطمہ بڑا گاؤں گھوسی ضلع مئو میںمنعقد ’’ معاشرے کی اصلاح میں فقہ جعفری کا کردار ‘‘موضوع پر علمی اور فقہی نششت میں بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کے دوران کیا۔

معاشرے کی اصلاح و قیادت میں فقہ جعفری کا کردار ہمیشہ تابناک و تاریخ ساز رہا ہے، مولانا ابن حسن املوی

مولانا نے مزید کہا کہ ذیل میں ہم چند ایسے اہم تاریخی نکات و واقعات کی طرف اختصار کے ساتھ اشارۃًروشنی ڈالیں گے جو نہ صرف اصلاح معاشرہ میں فقہ جعفری کے کردار کی جانب واضح دلالت کرتے ہیں بلکہ ملک و ملت کی تعمیر و ترقی اور قیادت وقضاوت کی بھرپور صلاحیت و استعداد کی تائید و حمایت اور وکالت کرتے ہیں۔

فقہ جعفری کے اصلاح و قیادت کے تعلق سے عرض ہے کہ اس وقت دنیا میں تقریباً ۵۷؍ اسلامی ممالک ہیں مگر صرف ایک ملک ایران کا سرکاری مذہب فقہ جعفری ہے اور کسی ملک کا کوئی سرکاری مذہب کوئی اسلامی چار فقہوں میں سے ایک بھی نہیں ہے۔ یہ حقیقت ناقابل انکار ہے کہ ائمہ اربعہ کا سلسلۂ تلمذ امام جعفر صادق و امام محمد باقر علیہمالسلام کے واسطوں سے ہوتا ہوا مولائے کائنات حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام پر منتج ہوتا ہے جن کی ولایت و امامت فقہ جعفری کی اصل الاصول ہے۔

معاشرے کی اصلاح و قیادت میں فقہ جعفری کا کردار ہمیشہ تابناک و تاریخ ساز رہا ہے، مولانا ابن حسن املوی

امام فخرالدین رازی نے مولائے کائنات کے علم کے بارے میں لکھا ہے کہ ’’مولا علی نے فرمایا ہے کہ اگر میرے لئے مسند قضاوت بچھا دی جائے تو توریت والوں کا توریت سے،زبور والوں کا زبور سے،انجیل والوں کا انجیل سے اور قرآن والوں کا قرآن سے فیصلہ کروں گا‘‘(ارجح المطالب صفحہ ۱۱۲)

انس ابن مالک کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا ہے ’’اقضیٰ امتی علی ابن ابی طالب‘‘یعنی میری امت میں سب سے زیادہ صحیح فیصلہ کرنے والے علی ابن ابی طالب ہیں(المصابیح،ارجح المطالب صفحہ ۱۱۸)

مولانا نے کہا کہ زمانۂ غیبت امام میں بھی فقہ جعفری کے ایسے ایسے با کمال عالم و مجتہد و مرجع تقلید ومرد فقیہ پیدا ہوئے ہیں جنھوں نے اپنی علمی صلاحیت و قابلیت سے فقہ جعفری کی اصلاحی مہم کو کامیاب ثابت کرکے دکھادیا۔فقہ جعفری کی کامیابی کا بڑا راز زندہ مجتہد ومرجع و مردِفقیہ کی تقلید میں مضمر ہے جن کو’’ اصولی ‘‘کہا جاتا ہے۔

1585ء میں قاضی نوراللہ شوستری علیہ الرحمہ نے دربار مغلیہ میں قاضی القضاۃ کے عہدہ پر فائز رہ کر یہ ثابت کیا تھا کہ وہ تمام اہل مذاہب کا ان کے مذہب کے مطابق فیصلہ کرنے والے تھے۔تاریخ گواہ ہے کہ انھوں نے اس منصب پر فائز رہ کر اپنی عظیم علمی و فقہی صلاحیتوں کا شاندار مظاہرہ کیا اور نظام انصاف میں بد عنوانیوں کا خاتمہ کیا تھا۔

معاشرے کی اصلاح و قیادت میں فقہ جعفری کا کردار ہمیشہ تابناک و تاریخ ساز رہا ہے، مولانا ابن حسن املوی

1892ء میں ایران کے اند ر یاد کیجئے جب انگریزوں نے ایران میں تمباکو کی کاشت کے بہانے پورے ایران پر قبضہ کرنے کا پلان بنایا تھا تو اس وقت فقہ جعفری کے معروف مجتہد و فقیہ میرزا حسن شیرازی علیہ الرحمہ نے تحریم تمباکو کا فتویٰ دے کر ایران کو انگریزوں کے تسلط سے بچایا تھا۔

1 ؍جنوری 1989ء کو بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے سوویت یونین کے آخری رہنما میخائل گورباچوف کے نام ایک تاریخی خط لکھا، جس میں کمیونزم کے خاتمے کی پیش گوئی کی گئی۔ اس خط کا بنیادی مقصد مغربی سرمایہ داری کی بجائے اسلام کی طرف رجوع کرنے اور نظریاتی خلا کو پُر کرنے کے لیے خدا پرستی کی دعوت دینا تھا، انہوں نے گورباچوف کو مشورہ دیا کہ وہ اسلام کے الٰہیاتی اور فلسفیانہ اصولوں کا مطالعہ کریں۔کیا مذہبی دنیا میں ایسا کسی بھی مسلک و فقہ کا عالم ملتا ہے جس نے کسی بڑے ملک کے منتخب غیر مسلم صدر مملکت کو اسلام کی دعوت دی ہو؟ یہ صرف فقہ جعفری کے فقیہ عالی قدر آیۃ اللہ خمینی طاب ثراہ کو فخر و امتیاز حاصل ہے۔امام خمینی کے اس تاریخ ساز عمل سے مسلمانان عالم کی نظروں میں پیغمبر اسلام کا وہ یادگار تاریخی کارنامہ روشن ہو کر سامنے آگیا تھا جب پیغمبر اسلام نے متعدد غیر مسلم باشاہان ممالک کو دعوت اسلام کے لئے مکتوب ارسال فرمائے تھے۔

۱۴؍فروری 1989ءمیں رہبر کبیر انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی طاب ثراہ نے مرتد زمانہ سلمان رشدی کے تعلق سے مرتد کی سزا پر مبنی قتل کا تاریخی فتویٰ صادر ہونے کے بعد پوری دنیا میں فقہ جعفری کی درستگی و برجستگی کا چرچہ ہر خاص و عام کی زبان پر موضوع گفتگو بنا ہوا تھا۔

2013ء میں جب عراق پر دہشت گرد تکفیری ٹولہ داعش نے نام نہاد اسلامی اسٹیٹ کے نام پر قبضہ کرنے کی جارحانہ کوشش کی تو اس وقت فقہ جعفری کے موجودہ مرد فقیہ عالی قدر آیۃ اللہ سید علی حسینی سیستانی دام ظلہ العالی نے عراقی عوام کے لئے داعش کے خلاف قیام کا فتویٰ صادر فرمایا جس کے بعد عراق سے داعش فرار کرنے پر مجبور ہوگئے اور عراق کی سالمیت محفوظ رہ گئی۔

معاشرے کی اصلاح و قیادت میں فقہ جعفری کا کردار ہمیشہ تابناک و تاریخ ساز رہا ہے، مولانا ابن حسن املوی

ایران میں اسلامی جمہوری نظام حکومت کا قیام 1979ء کے انقلابِ ایران کا نتیجہ تھا، جس کے ذریعے آیت اللہ روح اللہ خمینی کی قیادت میں پہلوی بادشاہت (شاہ محمد رضا پہلوی) کا خاتمہ کیا گیا۔ فروری 1979ء میں انقلاب کی کامیابی کے بعد، عوام نے ریفرنڈم کے ذریعے اسلامی جمہوریہ ایران کے قیام کی توثیق کی، جس میں "ولی فقیہ" (سپریم لیڈر) کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔

ایران میں عوامی ریفرنڈم کے ذریعہ فقہ جعفری کی حکومت قائم ہونے کے بعد سے آج تک بیشمار آزمائشوں،پابندیوں اور محاذ آرائیوں کا مقابلہ کرتا ہواایران نہ صورف اپنی جگہ پر قائم واستوار ہے بلکہ دنیا کے سپر پاور (امریکہ) کو مسلسل شکست ِفاش دیتا ہوا پوری دنیا پر جو اپنی فتح و ظفر کا پرچم لہرا رہا ہے وہ فقہ جعفری کی صداقت و حقانیت کی واضح دلیل ہے۔

مولانا ابن حسن املوی واعظ نےاسلامی جمہوریہ ایران کے حا لیہ تازہ ترین واقعہ کی جانب سامعین کی توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ :جنوری 2026ء کے ابتدائی ایام میں امریکہ و اسرائیل کی منصوبہ بند معاندانہ انتہائی خطرناک سازشوں کے باوجود ایران میں نہ صرف نظام اسلامی کی صداقت کا شاندار مظاہرہ ہوا بلکہ86؍سالہ بزرگ رہبر معظم انقلاب اسلامی آیۃ اللہ العظمیٰ آقائ سید علی حسینی خامنہ ای دام ظلہ العالی کی ہمت و جرأت، صبروشکر،علم و حلم اورشجاعت و استقامت کی دھاک سارے عالم پر چھا گئی۔دنیا یہ انتہائی زوروشور سے یہ پروپیگنڈہ کر رہی تھی کہ آقای خامنہ ای معاذ اللہ تشدد آمیز مظاہروں کے ڈر سے ایران چھوڑ کر اپنی فیملی کے ساتھ کسی نامعلوم ملک میں بھاگ گئے ہیں ۔مگر ان جھوٹے مکار ،زرخرید نام نہاد صحافیوں اور شیطانی ایجنٹوں کو یہ علم نہیں کہ فقہ جعفری میں کبھی بھی رہبر بھگوڑا نہیں ہوتا اور بھگوڑا رہبر نہیں ہوتا۔ آیۃ اللہ خامنہ ای نے بھی امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو واضح لفظوں میں بتایا کہ اگر ہم کو سمجھنا چاہتے ہو تو کربلا کے ہیرو حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کے جاں نثاروں کی تاریخ پڑھو۔ہم موت سے ڈر کر بھاگنے والے نہیں ۔شہادت ہمارے لئے سعادت اور وراثت ہے۔ہم اصلاح امت کی خاطر جان دے سکتے ہیں مگر باطل کے سامنے جھکنے والے نہیں ہیں۔

مولانا نے کہا کہ آخر میں ایک واقعہ جس کے ذکر کے بغیر یہ موضوع تشنہ تکمیل رہ جائے گا وہ یہ ہے کہ :۔

علامہ حلی کا مشہور علمی و فقہی مناظرہ:

میرزا محمدعلی مدرس اپنی کتاب ریحانۃ الادب میں علامہ مجلسی کی کتاب من لایحضرہ الفقیہ کی شرح میں لکھتے ہیں: ایک دن سلطان محمد خدا بندہ الجائتونے ایک مجلس منعقد کیا اور اہل سنت کے بڑے بڑے علماء کو مدعو کیا نیز علامہ حلی کو بھی اس مجلس میں دعوت دی گئی۔ علامہ حلی نے مجلس میں داخل ہوتے وقت جوتے اپنی بغل میں رکھ کر پادشاہ کے قریب جا کر بیٹھ گئے۔ درباریوں نے علامہ سے پوچھا کہ کیوں آپ نے پادشاہ کو سجدہ اور احترام نہیں کیا؟ اس موقع پر علامہ نے جواب دیا: پیغمبر اکرم(ص) تمام پادشاہوں کے پادشاہ تھے اور انہیں سب سلام کرتے تھے اور قرآن میں بھی آیا ہے کہ "فَإِذَا دَخَلْتُم بُيُوتًا فَسَلِّمُوا عَلَى أَنفُسِكُمْ تَحِيَّة مِّنْ عِندِ اللَّه مُبَارَكَة طَيِّبَة(ترجمہ جب بھی کسی گھر میں داخل ہو جاؤ تو ایک دوسرے کو سلام کیا کرو! یہ سلام خدا کے نزدیک مبارک اور پسندیدہ ہے)۔ اس کے علاوہ ہمارے اور تمہارے درمیان اس بات میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ سجدہ صرف خدا کے ساتھ مختص ہے۔

انہوں نے کہا پس کیوں تم پادشاہ کے قریب جا کر بیٹھ گئے ہو؟ علامہ نے جواب دیا: کیونکہ اس کے علاوہ کوئی جگہ خالی نہیں تھی اور حدیث میں آیا ہے کہ جب تم کسی مجلس میں جاؤ تو جہاں کہیں جگہ خالی ہو وہیں بیٹھ جاؤ۔ پوچھا گیا: ان جوتوں کی کیا حیثیت تھی کہ تم اسے پادشاہ کے دربار میں لے آئے ہو؟ علامہ نے جواب دیا: مجھے اس بات کا خوف ہوا کہ مذہب حنفی والے میرے جوتے چوری نہ کر لیں جس طرح ان کے پیشوانے پیغمبر اکرم(ص) کی جوتیاں چوری کی تھیں۔ یہ سنا تھا کہ مذہب حنفی کے ماننے والوں نے اعتراض کیا اور کہا کہ ابوحنیفہ تو پیغمبر اکرم(ص) کے زمانے میں موجود نہیں تھا۔ علامہ نے کہا معاف کیجئے گا مجھ سے غلطی ہوگئی وہ شخص شافعی تھا، اس طرح یہ گفتگو اور اعتراض شافعی، مالکی اور جنبلیوں کے ساتھ تکرار ہوا۔

اس موقع پر علامہ حلی نے پادشاہ کی طرف رخ کر کے کہا: اب حقیقت روشن ہو گئی کہ مذاہب اربعہ میں سے کسی ایک مذہب کا پیشوا پیغمبر اکرم(ص) کے زمانے میں موجود نہیں تھا اس سے پتہ چلتا ہے کہ ان کے نظریات ان کی اپنی اختراع ہے اس کا وحی اور پیغمبر اکرم(ص) کے تعلیمات سے کوئی واسطہ نہیں ہے، لیکن مذہب شیعہ جو امیرالمؤمنین حضرت علی(ع) کے پیروکار ہیں جو پیغمبر اکرم(ص) کے وصی، جانشین اور نفس پیغمبر ہیں۔

علامہ نے اس مناظرہ کے آخر میں ایک نہایت فصیح اور بلیغ خطبہ بھی دیا جس کو سننے کے بعد پادشاہ نے مذہب شیعہ اختیار کیا۔

علامہ سلطان محمد خدابندہ کی وفات تک ایران ‌میں مقیم رہے اور مذہب حقہ کی نشر و اشاعت میں اہم کردار ادا کیا۔ ایران میں اقامت کے دوران علامہ حلی پادشاہ کے تمام مسافرتوں میں ہمراہ رہے اور ان کی ہی تجویز پر پادشاہ نے ایک سیار مدرسہ بھی تاسیس کیا یوں علامہ جہاں بھی جاتے خیمہ نصب کئے جاتے یوں علامہ درس و تدریس میں مشغول ہو جاتے تھے۔

اثرات: اس واقعے کے بعد ایران میں شیعہ مذہب کو فروغ ملا، اور علامہ حلی کی کوششوں سے ایران میں مذہب جعفری کا سرکاری مذہب کے با قاعدہ طور پر نفاذ ہوا۔

علامہ حلی کا یہ مناظرہ (جو غالباً 709ھ میں ہوا) علمی استدلال کے ذریعے مذہب تشیع کی تبلیغ کی ایک روشن مثال ہے۔

معاشرے کی اصلاح و قیادت میں فقہ جعفری کا کردار ہمیشہ تابناک و تاریخ ساز رہا ہے، مولانا ابن حسن املوی

واضح رہے کہ شیخ جمال الدین، ابو منصور، حسن بن یوسف بن علی بن مطہر حلّی، ملقب بہ علامہ حلّی(رہ)، رمضان المبارک کے مہینہ میں سنہ ۶۴۸ ھ ق شہر حلّہ (عراق)میں پیدا ہوئے ۔ اور محرم الحرام ۷۲۶ھ ق میں اسی شہر میں دارفانی سے رخصت ہو گئے ۔اورنجف اشرف امیرالمومنین(ع) کے روضہ کے اک صحن میں سپرد خاک کیئے گئے۔

مذکورہ علمی و فقہی نشست انتہائی کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی جس میں علاقے کے متعدد حوزات علمیہ کے مدیران و ذمہ داران اور پوروانچل کے آس پاس کے علاقوں سے آئے ہو ئےسیکڑ وں ائمہ جمعہ و جماعات و علماء و افاضل اور مومنین نے شرکت کی جن کے قیام و طعام کا معقول و مکمل انتظام کیا گیا تھا۔پروگرام کا آغاز قاری قرآن مولانا جعفر علی نے تلاوت قرآن مجید سے کیا۔اس کے بعد مولانا فیض عسکری نے منظوم کلام پیش کیا۔اورمولانا تنویر الحسن غازی پوری،مولانا شجاعت علی،مولانا افتخار حسین، مولانا بدرالحسن ،مولانا فیروز عباس ،مولانا مظاہر حسین پرنسپل مدرسہ باب العلم مبارکپور وغیرہ نے ’’اصلاح معاشرے میں فقہ جعفری کا کردار ‘‘موضوع پر بہترین تقریریں کیں۔نظامت کے فرائض مولانا افتخار حسین نے بحسن و خوبی انجام دئے۔

پروگرام کے اختتام پر حجۃ الاسلام مولانا منہال حسین خیرآبادی ایران کلچر ہاؤس دہلی اور حجۃ الاسلام مولانا سید علی فخری مدیر جامعہ فاطمہ گھوسی نے جملہ شرکاء ومہمانان گرامی کا پرخلوص شکریہ ادا کیا۔

مولانا منہال حسین صاحب نے ہمارے نمائندہ کو بتایا کہ ہندوستان میں رہبر معظم کے نمائندہ آیۃ اللہ داکٹر عبد المجید حکیم الٰہی مدظلہ العالی کے حکم و ایما سے ’’فقہ اکیڈمی‘‘ کا قیام عمل میں آیا ہے اسی کی طرف سے یہ پہلا پروگرام منعقد کیا گیا ہے ۔ان شاءاللہ آئندہ بھی مختلف شہروں میں ’’فقہ اکیڈمی ‘‘ کے زیر انتظام اس طرح کا پروگرام منعقد ہوگا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha